حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، مھدی آباد-کھرمنگ/ امام جمعہ والجماعت مرکزی جامع مسجد مھدی آباد، ضلع کھرمنگ، مولانا سید ہادی الموسوی نے کہا ہے کہ سیدہ نساء العالمین حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی حیاتِ طیبہ عصرِ حاضر کی خواتین کے لیے بہترین نمونۂ عمل ہے۔ آپؑ کی سیرتِ مبارکہ میں بیٹی، زوجہ اور ماں کی حیثیت سے ایسے اعلیٰ اخلاقی و تربیتی اصول موجود ہیں جو ہر دور کی خواتین کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
خطبۂ جمعہ میں ایامِ فاطمیہ کی مناسبت سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی شخصیت محض تاریخی عظمت کا عنوان نہیں، بلکہ عفت، حیا، پاکیزگی، اخلاق اور خاندانی تربیت کا ایک کامل عملی نمونہ ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ نئی نسل، بالخصوص بچیوں کی تربیت سیرتِ زہرا سلام اللہ علیہا کی روشنی میں کی جائے اور انہیں دینی و اخلاقی اقدار سے آراستہ کیا جائے۔
انہوں نے تعلیمی اداروں میں بچیوں کے رقص اور غیر اخلاقی ثقافتی سرگرمیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایامِ فاطمیہ کے دوران یومِ آزادی کی ایک تقریب میں بچیوں کے ذریعے ٹیبلو پیش کرنے اور رقص کا اہتمام کرنا سنجیدہ توجہ کا متقاضی ہے۔ یہ طرزِ عمل ہماری تہذیبی روایات، دینی اقدار اور معاشرتی آداب سے مطابقت نہیں رکھتا۔ انہوں نے محکمۂ تعلیم پر زور دیا کہ آئندہ ایسے پروگراموں کی ترتیب دیتے وقت دینی، اخلاقی اور تہذیبی تقاضوں کو ملحوظ رکھا جائے اور تعلیمی اداروں میں بچیوں کو شرم و حیا، عفت اور کردار سازی کی تعلیم دی جائے۔
مولانا سید ہادی الموسوی نے مزید کہا کہ تعلیم کا مقصد محض ڈگریوں کا حصول نہیں، بلکہ ایک صالح، باکردار اور ذمہ دار انسان کی تعمیر بھی ہے۔ تعلیمی اداروں میں اخلاقی تربیت اور سماجی ذمہ داریوں سے غفلت کے سنگین نتائج سامنے آتے ہیں۔ انہوں نے خاندانی نظام اور معاشرتی اقدار کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ازدواجی زندگی میں جذبات اور خواہشات کے بجائے باہمی احترام، خاندانی روایات اور ایک دوسرے کے معاشرتی پس منظر کو سمجھنا ضروری ہے۔ ان امور سے غفلت بعض اوقات خوشحال خاندانوں کے انتشار اور ٹوٹ پھوٹ کا سبب بن جاتی ہے۔
عالمی حالات اور ایران کے خلاف امریکی و اسرائیلی پالیسیوں پر تبصرہ
خطبۂ جمعہ کے ایک حصے میں عالمی حالات کا ذکر کرتے ہوئے سید ہادی الموسوی نے امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں پر تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ نام نہاد عالمی سپر پاور امریکہ اور اسرائیل ایران میں رجیم چینج کے خواہاں تھے، لیکن آج خود انہیں اپنے سیاسی و حکومتی نظام کے حوالے سے مشکلات اور داخلی تبدیلیوں کے چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان کے بقول، طاقت اور غرور کی بنیاد پر دوسروں کے نظام کو تبدیل کرنے کے خواب دیکھنے والوں کو خود اپنے حالات پر غور کرنا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عالمی سیاست میں طاقت کے زعم اور دوسروں پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوششوں کے بجائے انصاف، خودمختاری اور قوموں کے حقِ انتخاب کا احترام ضروری ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ غرور اور طاقت کے بل پر قائم کی جانے والی پالیسیاں ہمیشہ کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوتیں۔










آپ کا تبصرہ